Minorities

لاہور (نامہ نگار+ لیڈی رپورٹر) گرین ٹاؤن کے علاقہ میں گھر میں سے نومسلم خاتون کی 2 بیٹوں سمیت نعشیں برآمد ہوئیں۔ مرنے والوں میں 25 سالہ عائشہ کے دو بیٹے 9 ماہ کا محمد نور اور دو سالہ ایان علی شامل ہیں۔ پولیس نے تینوں نعشیں پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا کر متوفیہ کے خاوند کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی۔ تفصیلات کے مطابق شیراکوٹ کے رہائشی پراپرٹی ڈیلر محمد عثمان نے عائشہ سے دوسری شادی کر رکھی تھی جبکہ عائشہ کی بھی یہ دوسری شادی تھی۔ عثمان کی پہلی بیوی شیراکوٹ جبکہ دوسری گرین ٹاؤن ملٹری اکاؤنٹس سوسائٹی کے قریب جیوا چوک میں کرائے کے مکان میں دو بیٹوں دو سالہ ایان علی اور 9 ماہ کے محمد نور کے ہمراہ رہائش پذیر تھی۔ محمد عثمان نے 5 ماہ قبل وہ گھر نعمان سے کرائے پر لیا تھا۔ ایک پورشن میں مالک عرفان جبکہ بالائی منزل پر عائشہ اور اس کے بچے رہائش پذیر تھے۔ گزشتہ روز عرفان اور اس کی فیملی نے محسوس کیا کہ عائشہ اور اس کے بچے کافی دیر سے نیچے نہیں آئے۔ عرفان نے اوپر جا کر دروازے پر دستک دی کوئی جواب نہ آیا جس پر انہوں نے پولیس کو اطلاع کر دی۔ محمد عثمان بھی موقع پر پہنچ گیا۔ پولیس نے گھر کی کھڑکی کاٹی تو بیڈ پر عائشہ اور اس کے دونوں بچوں کی نعشیں پڑی تھیں۔ پولیس نے نعشیں قبضے میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لئے مردہ خانے جمع کرا دیں۔ محمد عثمان کو بھی حراست میں لے لیا۔ ابتدائی تفتیش سے لگتا ہے تینوں کی ہلاکت زہرخورانی سے ہوئی۔ ان کو زہر دے کر قتل کیا گیا یا پھر یہ خودکشی کا واقعہ ہے۔ اصل حقائق پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔ ماں اور دو معصوم بچوں کی نعشیں ملنے کی خبر پھیلنے پر لوگوں کی بڑی تعداد موقع پر اکٹھی ہو گئی۔ اس موقع پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ماں اور دو بچوں کی ہلاکتوں کے واقعہ پر فرانزک سائنس لیبارٹری کا عملہ و موبائل وین موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے واقعاتی شہادتیں حاصل کیں۔ پولیس کے مطابق نعشوں پر تشدد کا یا کسی اور قسم کے نشانات نہیں ہیں۔ واضح رہے کہ عائشہ عیسائی مذہب تبدیل کرکے مسلمان ہوئی تھی۔ عائشہ کی بھی یہ دوسری شادی تھی۔ اس کا پہلے خاوند سے بیٹا 2 سالہ ایان علی تھا جبکہ دوسری شادی سے 9 ماہ قبل محمد نور پیدا ہوا تھا۔ گرین ٹاؤن پولیس نے خاتون اور اس کے دو بچوں کی قتل کی واردات پر مقتولہ کے خاوند عثمان کے خلاف تہرے قتل کی واردات کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ پولیس نے مقتولہ عائشہ کی ماں پروین مسیح زوجہ پرویز مسیح کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔ مدعیہ پروین مسیح کے مطابق عثمان نے عائشہ اور دونوں بچوں کو زہر دے کر قتل کیا۔ ملزم عثمان سے تفتیش جاری ہے۔ اس کے بیانات میں بھی تضاد ہے۔ ملزم کا کہنا ہے کہ وہ دو روز قبل عائشہ کے پاس گھر آیا تھا جس کے بعد اس کا عائشہ سے ایک دفعہ موبائل پر رابطہ ہوا کہ ایک بیٹے کی طبیعت خراب ہے۔ لیڈی رپورٹر کے مطابق نوائے وقت سے گفتگو میںمحلے داروںکی طرف سے متضاد آرا سامنے آئیں ۔ شاہدہ اور جمیلہ کا کہنا تھا کہ معاملہ خود کشی نہیں قتل کا لگتا ہے۔ عائشہ اپنے شوہر کی دوسری بیوی تھی اور خوش و خرم نظرآتی تھی۔ وہ ملنسار خاتون تھی، نہیں لگتا کہ اس نے بچوں سمیت خودکشی کرلی ہو۔ دوسری جانب اکبر اور نبیلہ نے کہاکہ انکے گھر سے دو تین مرتبہ لڑائی جھگڑے کی آوازیں سنائی دیں۔ شاید انہی جھگڑوں اورگالی گلوچ سے دلبرداشتہ ہوکر عائشہ نے بچوںکوزہردے کر خود بھی کھا لیا ہو یا اس کے شوہر نے کھانے میں زہر ملا دیا۔ اصل صورتحال پوسٹمارٹم رپورٹ سامنے آنے پر ہی معلوم ہوگی۔