Death penalty (PAK)

مشال قتل: گولی مارنے والے مجرم کو سزائے موت‘ 5 کو عمر قید‘26 بری

ہری پور (آئی این پی‘ نوائے وقت نیوز) انسداد دہشت گردی عدالت نے مشال خان قتل کیس میں گولی چلانے والے ایک مجرم عمران سلطان محمد کو سزائے موت ‘پانچ مجرموں بلال بخش‘ فضل رزاق‘ مجیب اللہ‘ اشفاق خان اور مدثر بشیر کو عمر قید ‘25 کو4 ‘ 4 سال قیدکی سزا سنا دی جبکہ26 کوشک کا فائدہ دے کر رہا کردیاگیا، 4مفرور ملزموں کو اشتہاری قراردیدیا گیا۔ عدالت نے پانچ پانچ ملزموں کو بلا کر سزا سنائی۔ تفصیلات کے مطابق بدھ کو مشال قتل کیس میں گرفتار 58 ملزموں کوسنٹرل جیل ہری پور میں انسداد دہشتگردی عدالت کے جج فضل سبحان کے سامنے پیش کیا گیا۔اے ٹی سی کے جج فضل سبحان نے ایک ملزم کو سزائے موت اور پانچ کو 25-25 سال جبکہ 25 ملزموں کو 4‘ 4 سال قید کی سزا سنائی۔اس موقع پر ہری پور کی سنٹرل جیل میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اورجیل کے اطراف سکیورٹی کیلئے پاک فوج کے دستے تعینات تھے۔عدالت نے پانچ پانچ ملزموں کو بلا کر سزا سنا ئی ۔کل 58 ملزموں میں سے 26 کو شک کا فائدہ دے کر رہا کردیا گیا۔یاد رہے کہ 13 اپریل 2017 کو عبد الولی خان یونیورسٹی مردان میں 23 سالہ طالب علم مشال خان کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔ عدالت نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد 30 جنوری کو مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔واضح رہے کہ مشال خان کے قتل کا مقدمہ 61 افراد کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج ہوا اور 58 ملزمان گرفتار ہوئے جب کہ تین ملزم عارف خان، اسد اور صابر تاحال مفرور ہیں۔سماعت کے موقع پر ملزمان کے ورثاء نے سیاسی و مذہبی جماعتوں ‘او این جی اوز کے ہمراہ احتجاج کا اعلان بھی کررکھا تھا۔ سنٹرل جیل میں فہرست سے ہٹ کر میڈیا سمیت غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی عائد تھی۔ پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جیل کے اطراف میں تعینات تھی۔ سنٹرل جیل کی طرف آنے والے تمام راستوں کو خار دار تاریں اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا تھا۔خیبر پی کے حکومت نے مشال قتل کیس میں بری ہونے والے 26 ملزموں کی رہائی کیخلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔