Senate

سینٹ الیکشن جوڑ توڑ عروج پر، خیبر پی کے سے قومی وطن پارٹی کے ایم پی اے گوہر نواز مسلم لیگ ن میں شامل

لاہور+اسلام آباد+ملتان (خبرنگار + نامہ نگار+محمد نوید شاہ) پنجاب سے سینٹ کی خالی ہونیوالی 11 نشستوں کیلئے 34 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیئے۔ پنجاب میں 7 جنرل نشستوں، 2 خواتین اور 2 علماء و ٹیکنو کریٹس نشستوں پر امیدواروں کا چنائو ہوگا۔ کاغذات نامزدگی جمع کرانیوالوں میں موجودہ وزیر خزانہ اور سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے سمدھی اسحاق ڈار، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ہمشیرہ سعدیہ عباسی بھی شامل ہیں۔ 7 جنرل نشستوں کیلئے کامل علی آغا، عثمان خان زئی، اسحاق ڈار، شہزاد علی خان، بلال بٹ، سرفراز قریشی، آصف سعید کرمانی، ہارون خان، سمیع اللہ چودھری، رانا مقبول احمد، مصدق مسعود ملک، چودھری محمد سرور، زبیر گل، ملک شکیل احمد اعوان، شاہین خالد بٹ، عرفان احمد خان ڈاہا، رانا محمودالحسن، میاں حامد معراج، رائو انیس الرحمن خان شامل ہیں۔ کامل علی آغا اور شہزاد علی خان نے 2، 2 کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ خواتین کی دو نشستوں کیلئے حنا ربانی کھر، مسز نزہت صادق، شازیہ فاطمہ خواجہ، سعدیہ عباسی اور عندلیب نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ ٹیکنو کریٹس اور علماء کی دو نشستوں پر اسحاق ڈار، نوازش علی پیرزادہ، عبدالکریم، محمد آصف جاوید اور نصیر احمد بھٹہ نے کاغذات جمع کرائے ہیں۔ اقلیتوں کی ایک نشست کیلئے کامران مائیکل، ولیم مائیکل، وکٹر عذریاہ شامل ہیں۔ ترجمان تحریک انصاف فواد چودھری نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے سینٹ کیلئے کاغذات نامزدگی چیلنج کئے جائیں گے اہلیت پر پورے نہ اترنے والے دیگر ن لیگی امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بھی چیلنج کریںگے۔ اسحاق ڈار منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں۔ عدالتوں کا سامنا نہیں کر رہے۔ سینٹ کا الیکشن لڑنے پاکستان آئیں گے۔ دوسری طرف سینٹ انتخابات کیلئے خیبر پی کے میں جوڑ توڑ عروج پر ہے۔ پیپلز پارٹی نے خاتون امیدوار ڈاکٹر فائزہ سے آخری وقت میں ٹکٹ واپس لے لیا۔ مسلم لیگ ن نے قومی وطن پارٹی کے ایم پی اے گوہر نواز کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ مسلم لیگ ن نے ایم پی اے گوہر نواز کی بہن کو سینٹ کا ٹکٹ دیدیا۔ تحریک انصاف حجم سے زیادہ ٹکٹیں دینے پر مشکلات کا شکار ہو گئی۔ مولانا سمیع الحق سے کیا گیا وعدہ تحریک انصاف کے گلے کی ہڈی بن گیا۔ تحریک انصاف 4 جنرل اور خواتین و ٹیکنو کریٹ کی ایک ایک نشست جیت سکتی ہے۔ الیکشن کمشن آف پاکستان نے 3 مارچ 2018ء کو ہونے والے سینٹ انتخابات کیلئے الیکشن ایکٹ 2017ء کی شق 108 کے تحت ووٹر لسٹ (قومی اور صوبائی اسمبلیوںکے اراکین فہرست) متعلقہ ریٹرننگ آفیسر کو بھجوا دی ہے۔ الیکشن کمشن کے مطابق اثاثوں / گوشواروں کی سالانہ تفصیلات جمع نہ کرانے پر جن 9 اراکین صوبائی اسمبلی کی رکنیت کو معطل کیا ہے وہ سینٹ انتخابات میں اس وقت تک حصہ نہیں لے سکتے جب تک ان کی رکنیت بحال نہیں ہو جاتی۔ الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ سینٹ الیکشن میں سندھ اسمبلی سے 7 ارکان کی رکنیت تاحال معطل ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے 3 ارکان نے اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کرائیں۔وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے گورنر اقبال ظفر جھگڑا کو ٹیلی فون کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سینٹ الیکشن میں پیسے کے استعمال کو روکنے پر بات چیت کی گئی دونوں رہنمائوں نے سینٹ الیکشن میں پیسوں کا استعمال روکنے پر اتفاق کیا۔ ایم پی اے رانا محمود الحسن کو سینٹ کا ٹکٹ جاری ہوتے ہی ان کے ڈیرے اور شہر کے مختلف علاقوں میں مٹھائی تقسیم اور جشن کا سماں پیدا ہو گیا اس جشن میں میئر ملتان کے خلاف بننے والے ملتان ڈویلپمنٹ گروپ کے ارکان بھی شامل ہو گئے ان کے سینیٹر بنتے ہی ان کا حلقہ پی پی 196 بھی خالی ہو جائے گی تاہم الیکشن کمشن کے قواعد کے مطابق اس حلقہ میں اب ضمنی الیکشن کا انعقاد نہیں ہو سکے گا۔ دوسری جانب ان کے مخالف سابق صوبائی وزیر چودھری وحید ارائیں کا کہنا ہے کہ آج سے رانا محمود الحسن عملی سیاست سے آؤٹ ہو چکے ہیں۔ ان کو حلقہ میں کوئی سیاسی حیثیت نہیں ہے، انشاء اﷲ وہ این اے 150 سے خود پارٹی کے ایم این اے کے امیدوار ہونگے جبکہ پی پی 196 میں ان کے ہمراہ حاجی رانا سجاد موجود ہونگے۔ دوسری طرف مسلم لیگ ن نے ملتان سے تعلق رکھنے والے ایم پی اے رانا محمود الحسن کو اچانک سینیٹ کا ٹکٹ دیکر ملتان کی مقامی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے اپنی ٹکٹ سے ایم پی اے گزشتہ روز صبح تک لاعلم تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ مسلم لیگ ن ملتان میں آئندہ الیکشنز میں لیگی عہدیداروں کے آپس کے بڑھتے ہوئے اختلافات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ رانا محمود الحسن نے اپنا نمبر بند کیا ہوا تھا جس کے بعد ان کے ایک قریبی دوست کے نمبر پر پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت نے خود فون کیا اور کہا کہ رانا محمود الحسن سے فوری رابطہ کریں۔ بعد ازاں رانا محمود الحسن کو بذریعہ ہیلی کاپٹر لاہور بلوا لیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے حالیہ فیصلہ دو وجوہات کی بنا پر کیا ہے ملتان سے گورنر بننے کے بعد ملک رفیق رجوانہ کی صورت میں سینٹ کی واحد نشست خالی ہو چکی تھی۔ دوسری وجہ مسلم لیگ ن میں آپس کے بڑھتے ہوئے اختلافات ہیں اس وقت مسلم لیگ ن میں حلقہ 150 میں ن لیگ زبردست دھڑے بندی کا شکار ہے سابق صوبائی وزیر چودھری وحید ارائیں اور رانا محمود الحسن کے درمیان اختلافات اپنے عروج پر پہنچے ہوئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن ملتان کے حلقہ این اے 150 میں کوئی بڑا سرپرائز بھی دے سکتی ہے۔