Prime minister

سول ملٹری تعلقات منظم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں: وزیر اعظم

اسلام آباد (آئی این پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ووٹ خرید کر آنے والے سینیٹرز کو سیٹ نہیں دیں گے۔ جو سینیٹرز ووٹ خرید کر آئے‘ ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدالت اجازت دے تو جنرل مشرف کو واپس لایا جا سکتا ہے۔ سول ملٹری تعلقات ایک منظم انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ آئین و قانون فوج اور عدلیہ پر تنقید کی اجازت نہیں دیتا۔ فوج اور عدلیہ پر بیان بازی سے روک دیا ہے۔ دانیال عزیز اور طلال چودھری کے بیانات سے کسی کی دل آزاری ہوئی تو انہیں معذرت کر لینی چاہئے۔ وزیراعظم کی نامزدگی کا فیصلہ عام انتخابات کا نتیجہ آنے کے بعد ہو گا۔ امریکہ آکر 33ارب ڈالر کی امداد کا حساب کتاب کرلے۔ دو ممالک کے درمیان تعلقات میں اس طرح کی گفتگو نہیں ہوتی۔ ہم خودمختار ریاست ہیں، کوئی امداد مفت نہیں ہوتی۔ امداد کے بغیر بھی پاکستان چلتا رہا ہے اور چلتا رہے گا۔ ہم نے کبھی بھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا۔ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے ہونے والے حملے کے تانے بانے افغانستان تک جاتے ہیں۔ میرا کوئٹہ جانے کا مقصد حالات کو بہتر بنانے کی کوشش تھا۔ آٹومیٹک اسلحہ کے خلاف ہوں۔ ممبئی حملے کے معاملے پر ہمارا مؤقف واضح تھا کہ آپ ثبوت مہیا کریں‘ ہم کارروائی کریں گے مگر آج تک کوئی ثبوت مہیا نہیں کیا گیا۔ سندھ پولیس کے معطل ایس ایس پی رائو انوار کو پکڑا جانا چاہیے۔ رائو انوار اپنے آپ کو عوام کی نظروں میں گرا رہا ہے۔ اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسے اپنے دفاع کا پورا حق ہے مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب وہ عدالت میں پیش ہو گا‘ وہ جمعرات کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستانی ٹی وی چینل نہیں دیکھتا۔ وقت کی کمی کے باعث میں ٹی وی نہیں دیکھ سکتا۔ دوسرا دفتری اوقات میں ٹی وی کے استعمال کے خلاف ہوں۔انہوں نے کہا کہ سول ملٹری ملاقاتوں میں دہشت گردی سے متعلق امور پر کھل کر بات ہوتی ہے۔ محمود خان اچکزئی کی رائے ان کی ذاتی ہے۔ آج سے 30سال پہلے حلقے کے عوام کی رائے میں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا۔ بہت سے لوگ دبائو کے باعث جماعت چھوڑ کر گئے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ میرا مقصد نوازشریف کی پالیسیوں کو مکمل کرنا تھا۔ ہم ہر ہفتہ قومی سطح کے منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں۔ میں آٹومیٹک اسلحہ کے خلاف ہوں اور یہ پاکستان میں ممنوع ہے۔ ماورائے عدالت قتل یا ٹارگٹ کلنگ مسئلہ کا حل نہیں۔ یہ طریقہ ایسی خرابیاں پیدا کرتا ہے جس کا ازالہ بعدازاں ممکن نہیں ہوتا۔ حکومت ان کی گرفتاری کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔ رائو انوار اپنے آپ کو عوام کی نظروں میں گرا رہا ہے۔ اس کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔ اسے اپنے دفاع کا پورا حق ہے مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب وہ عدالت میں پیش ہو گا۔