Death penalty (PAK)

سرعام پھانسی کیلئے آئینی ترامیم کے بجائے، سپیڈی ٹرائل کورٹ بنانے کی ضرورت ہے: اسلامی نظریہ کونسل

اسلام آباد(آن لائن) اسلامی نظریہ کونسل نے سرعام پھانسی کے حوالے سے آئین میں ترامیم کرنے کی بجائے عدالتوں کے ذریعے جلد انصاف فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، اسلامی سزائوں کا اصل مقصد خوف پیدا کرنا ہوتا ہے ملک میں عدالتی نظام کو بہتر بنانے اور سپیڈی ٹرائل کورٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے بعدپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیرمین ڈاکٹر قبلہ آیاز نے کہاکہ اجلاس میں سینٹ کی جانب سے سرعام پھانسی کے حوالے سے اسلامی نکتہ نظر واضح کرنے کے بارے میں رائے مانگی گئی جس پر تفصیلی بحث کے دوران متفقہ طور پر قراردیا گیا کہ ملک کاعدالتی نظام اصلاح طلب ہے اور اس کے لیے فوری طور پر بڑے اقدامات کرنے ہوں گے انہوںنے کہاکہ زینب قتل کیس اور اس قسم کے سنگین جرائم کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے کونسل نے سفارش کی کہ ان سنگین جرائم کے لیے فوری اور سریع الانصاف عدالتوںکا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ متاثرین کی جلداز جلد داد رسی کا اہتمام ہو انہوںنے کہاکہ پاکستان میں سزا کی شدت اور سنگینی کی بجائے سزا کی یقینیت کا اہتمام ہونا چاہیے اور یہی وہ بہتر راستہ ہے، جسکی وجہ سے جرائم میں کمی کا امکان ہے اسی طرح سزاؤںکی تشہیر کے لیے جدید ذرائع ابلاغ سے مدد لی جائے تاکہ اسلامی فلسفہ سزا برائے زجر اور انسداد جرائم کا مقصد حاصل ہو جائے انہوںنے کہاکہ سرعام سزا کے حوالے سے قرآن پاک میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی مجرم کو سزا دینے کے وقت 30سے 40افراد کی موجودگی ضروری ہے اور موجودہ حالات میں کسی بھی مجرم کو پھانسی کی سزا دیتے ہوئے اس کے عزیز و اقارب سمیت کافی لوگ موجود ہوتے ہیں جس سے یہ مقصد حاصل ہوجاتا ہے ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہاکہ کونسل نے پیغام پاکستان اعلامیہ/بیانیہ/فتویٰ کی تائید کی اور سفارش کی کہ پارلیمنٹ کے ذریعے اس پر عملدرآمد کے لیے قانون سازی کی جائے اسی طرح پیغام پاکستان کے اعلامیے پر جن علماء کرام نے دستخط کئے تھے ان علماء کرام کے زریعے مدارس کے طلبا میں اعلامئے پر بحث کی جائے اور ہائرایجوکیشن کمیشن اس کو یونیورسٹیوں میں نصاب اور مکالمے کا حصہ بنائے انہوںنے کہاکہ صوبائی حکومتیں اعلامئے کی تشہیر کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر علماء کنونشنز کا انعقاد کریں انہوں نے بتایاکہ کونسل نے وزارت مذہبی امور کی طرف سے ارسا ل کردہ ڈرافٹ برائے بین المذاہب تفہیم،تعاون ومکالمہ کی بھی منظوری دی اور امید ظاہر کی کہ اس بنیاد پر قائم ریاستی پالیسی بین الاقوامی برادری میں پاکستا ن کے تصور کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی انہوںنے کہاکہ کونسل نے نجی سود کی ممانعت کے بارے میں بل کے ساتھ اتفاق کیا اور قراردیا کہ نجی سود غریب اور مجبور لوگوں کے استحصال کا سبب ہے اور معاشرتی بگاڑ میں اضافے کا باعث ہے اس کے فوری انسدادکی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر قبلہ ایاز نے بتایاکہ کونسل نے پیمرا کی جانب سے ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے تشہیر پر پابندی کو سراہتے ہوئے یہ تجویز دی ہے کہ چونکہ ویلنٹائن ڈے کے موقع پر معاشرتی اقدار کی خلاف ورزی ہوتی ہے لہذا اس کی ممانعت ضروری ہے اور ویلنٹائن ڈے کے موقع پر خیر کی بجائے شر پیدا ہونے کا امکان ہو تو اس پر پابندی ضروری ہے۔ انہوںنے کہا کہ شراب کی ممانعت کے بارے میں بھجوائے گئے مراسلے پر کونسل نے بحث کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ شراب کے حوالے سے دیگر مذاہب کے پیشوائوں سے بھی مشاورت کی جائے گی۔